NATIONAL

ڈاکٹر ہرش وردھن نے صحت وتوانائی کے ایکشن پلیٹ فارم سے متعلق ڈبلیو ایچ او کے اعلیٰ سطحی اتحاد سے خطاب کیا

Summary

انہوں نے کاربن کے کم اخراج اور شمولیت والی ترقی کے ساتھ اقتصادی ترقی کےایک نئے ماڈل کو شروع کرنے میں ہندوستان کی منفرد پوزیشن پر زور دیا انسانوں پر مرکوز ہندوستان کا طریقہ کارعالمی فلاح کے فروغ کے لئے […]

انہوں نے کاربن کے کم اخراج اور شمولیت والی ترقی کے ساتھ اقتصادی ترقی کےایک نئے ماڈل کو شروع کرنے میں ہندوستان کی منفرد پوزیشن پر زور دیا
انسانوں پر مرکوز ہندوستان کا طریقہ کارعالمی فلاح کے فروغ کے لئے ایک بڑی قوت بن سکتا ہے: ڈاکٹر ہرش وردھن

سرینگر/10جون 2021/ صحت اورخاندانی بہبود کے مرکزی وزیر ڈاکٹر ہرش ودھن نے کل رات یہاں ویڈیو کانفرنس کے ذریعہ عالمی صحت تنظیم ، ڈبلیو ایچ او کی صحت اورتوانائی کے ایکشن پلیٹ فارم سے متعلق اعلی سطحی اتحاد کی پہلی میٹنگ سے خطاب کیا۔اس میٹنگ میں کئی اہم شخصیات، قومی سربراہان اور عالمی بینک، یواین ڈی پی ، یو این ایچ آر سی، بین الاقوامی قابل تجدید توانائی ایجنسی (آئی آر ای این اے) وغیرہ جیسے مختلف فریقوں کے نمائندوں نے شرکت کی۔ان کاخطاب مندرجہ ذیل ہے:دنیا اب بھی کووڈ-19 کے غیر معمولی خطرے سے دوچار ہے جس کی وجہ سے حکومتوں اور شہریوں کو انسانی زندگی کے تحفظ اور پوری دنیا میں بیماریوں کو کم کرنے کے لئے غیر معمولی اقدامات کرنے پر مجبور کردیا ہے۔ اس وبا کے ساتھ ساتھ اس کے بندوبست کے لئے کی جانے والی وسیع کوششوں نے مختلف شعبوں کے درمیان ایک دوسرے پر زبردست انحصار کااعادہ کیا ہے۔ اس میں اس بات کو یقینی بنانے کی ضرورت کواجاگر کیا ہے کہ تمام شعبوں کے درمیان ایک دوسرے پر انحصار کی عکاسی ہماری پالیسیوں میں بھی ہونے کی ضرورت ہے تاکہ موثر اورپائیدار خدمات کی ترسیل کو یقینی بنایا جاسکے۔ہماری حکومت کے ذریعہ آب و ہوا میں تبدیلی اور انسانی صحت پر قومی ایکشن پلان کے عنوان سے ماہرین کی ایک کمیٹی تشکیل دی گئی تھی جس کا مقصد عام لوگوں ، حفظان صحت خدمات فراہم کرنے والوں اور پالیسی سازوں میں انسانی صحت پر آب و ہوامیں تبدیلی کے اثرات سے متعلق بیداری پیدا کرنا ہے۔ ماہرین کے قومی گروپ نے اپریل 2021 میں اپنی رپورٹ پیش کی ہے جس میں مخصوص موضوع کے تحت صحت کے ایکشن پلان، آب و ہوا سے ہونے والی بیماریوں اور صحت کے موضوعات کو شامل کیا گیا ہے۔’گرین اور آب و ہواسے مطابقت رکھنے والی حفظان صحت سہولیات” کے ضمن میں ہندوستان نے مالے اعلانیہ پر 2017 میں دستخط کئے تھے اور آب و ہوا سے مطابقت رکھنے وا لی حفظان سہولیات کو فروغ دینے پر رضامندی ظاہر کی تھی تاکہ ہر قسم کی آب و ہوا کو برداشت کیا جاسکے۔ ہندوستان آج کاربن کے کم اخراج والے اور شمولیت والی ترقی کے لئے اقتصادی ترقی کے ایک ماڈل کا آغاز کرنے کی منفرد پوزیشن میں ہے، جس میں سبھی کے لئے صحت خدمات کی فراہمی ایک اہم عنصر ہے۔م اس بات پر یقین رکھتے ہیں کہ یہ وقت کی ضرورت ہے کہ صحت اور توانائی کے شعبوں کی صلاحیتوں کو مستحکم کرنے کی خاطر وسائل کی فراہمی کے لئے ٹھوس سیاسی اور مالی عزائم کامظاہرہ کیا جائے۔ ایسے میں جبکہ ممالک کووڈ-19 کے بعد کی تیاری کررہے ہیں ، عالمی نظام کے دوبارہ مرتب کئے جانے کا ایک بہترین موقع ہے۔ گرین یا ماحول دوست امدادی منصوبے ملکوں کو اپنی توانائی کے وسائل میں تبدیلی کے ساتھ ساتھ اپنی معیشتوں کی بحالی میں مد کریں گے۔ مجھے یقین ہے کہ اس اتحادی گروپ کے اشتراک اور اجتماعی ایکشن سے ایک زیادہ سرسبز اور صحت مند کرہ ارض کے حصول میں مدد ملے گی۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *